نئی دہلی،29؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) سپریم کورٹ کے ذریعہ شیعہ عالم دین مولانا کلب جواد کی ہندوستان بھر میں محرم کا جلوس نکالنے کی اجازت دینے کے لیے داخل عرضی خارج کیے جانے کے بعد، اب الہ آباد ہائی کورٹ نے بھی ریاست میں محرم کا جلوس نکالنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ہائی کورٹ نے ہفتہ کو محرم کے پیش نظر تعزیہ کا جلوس نکالنے کی اجازت کے لئے داخل پٹیشن کو خارج کرتے ہوئے ریاست کی جانب سے کووڈ-19 کے حوالے سے محرم کے جلوس پر لگائی گئی پابندی کو برقرار رکھا۔
قابل ذکر ہے کہ روشن خان اور متعدد دیگر افراد نے مفادعامہ کی عرضی داخل کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں محرم کا جلوس نکالنے کی اجازت دی جائے، لیکن جسٹس ششی کانت گپتا اور شمیم احمد پر مشتمل ڈویژن بنچ نے پٹیشن کو یہ کہتے ہوئے خارج کردیا کہ حکومت نے کووڈ-19 کے پیش نظر تمام مذاہب کے مذہبی تقاریب پر پابندی عائد کی ہے۔
فاضل ججوں نے عرضی گزاروں کے اس بحث کو بھی ماننے سے انکار کردیا کہ حکومت محرم کے جلوس پر پابندی عائد کر کے ایک 'مخصوص کمیونٹی ' کو نشانہ بنا رہی ہے۔ججوں کا کہنا تھا کہ محرم جلوس پر عائد پابندی کووڈ-19کے پیش نظر ہے اور کسی بھی سماج کو ہدف بنانے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے۔